بدھ 5 اگست 2026 - 15:30
شہید امام خامنہ ای: فقاہت کی گہرائیوں سے تمدن سازی کی بلندیوں تک

حوزہ/ شہید سید علی خامنہ ای (قدس سرہ) نے فقاہت، حکمت اور تمدنی بصیرت کو یکجا کر کے ایک ایسے تمدن ساز حکیم کا نمونہ پیش کیا جس کی نظیر کم ملتی ہے۔ ان کی فکر میں ولایتِ فقیہ، دینی جمہوریت اور بیانیۂ گامِ دوم جدید اسلامی تہذیب و تمدن کے قیام کے بنیادی ستون اور اسلامی معاشرے کے مستقبل کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی: ہر دور اپنے رجال کا تقاضا کرتا ہے، لیکن بعض اوقات تاریخ اس انداز سے رقم ہوتی ہے کہ ایک شخصیت خود ایک عہد کی تعریف بن جاتی ہے۔ شہید سید علی خامنہ ای (قدس سرہ) انہی نادر شخصیات میں سے تھے جنہوں نے فقاہت کی گہرائی، حکمت کی بصیرت اور تمدنی فکر کو اس طرح یکجا کیا کہ وہ محض ایک فقیہ کی حد تک محدود نہ رہے، بلکہ ایک بے مثال تمدن ساز حکیم کی صورت میں ابھرے۔ مشہد کی گلیوں سے اٹھنے والی یہ شخصیت بالآخر ایک ایسے عظیم تمدنی منصوبے کی معمار بنی جس میں فقہ صرف فقہی احکام تک محدود نہیں رہی، بلکہ جدید اسلامی تہذیب و تمدن کی تعمیر کی روح بن گئی۔

یہ تحریر اس عظیم فکری سفر کا جائزہ لینے کی ایک کوشش ہے، جس میں شہید سید علی خامنہ ای (قدس سرہ) کی شخصیت کو فقاہت کی گہرائیوں سے اسلامی تمدن کے روشن افق تک پہنچنے والے ایک منفرد رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

1۔ سادہ زندگی سے عظمتِ فکر تک

سید علی خامنہ ای، سید جواد کے فرزند، اپریل 1939ء میں مشہدِ مقدس میں پیدا ہوئے۔ ایک دینی مگر نہایت سادہ گھرانے میں پرورش پانے کے باعث ان کی شخصیت میں عاجزی، سادگی اور محروم طبقات سے گہرا تعلق پیدا ہوا، جو زندگی بھر ان کے کردار کا نمایاں وصف رہا۔ تاہم، ان کا یہ سادہ پس منظر ان کی علمی ترقی کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہ بن سکا۔

انہوں نے حوزوی علوم کی تکمیل آیت اللہ العظمیٰ بروجردی اور امام خمینیؒ جیسے عظیم اساتذہ کی شاگردی میں کی، جبکہ فلسفہ اور عرفان کے میدان میں علامہ طباطبائیؒ کے علمی فیض سے بھرپور استفادہ کیا۔ لیکن جو چیز انہیں ایک روایتی فقیہ سے ممتاز کرتی ہے، وہ ادب، شعر و فنونِ لطیفہ سے ان کی گہری وابستگی ہے۔ وہ خود بھی ایک خوش ذوق شاعر تھے اور سینما کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسانی اور اسلامی اقدار کی ترویج کا مؤثر وسیلہ سمجھتے تھے۔

یہی علمی، فکری اور ثقافتی جامعیت ان کے تمدنی نظریے کی بنیاد بنی، ایک ایسا نظریہ جس میں دین اور دنیا، فقہ اور فن، سیاست اور اخلاق ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہم آہنگ اور مکمل نظام کی صورت میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔

2۔ ولایتِ مطلقۂ فقیہ: ایک فقہی نظریے سے تمدن سازی کی محرک قوت تک

اگر شہید سید علی خامنہ ایؒ کی تمدنی شخصیت کے نقطۂ عروج کی نشاندہی کرنی ہو تو بلا شبہ ولایتِ مطلقۂ فقیہ کے نظریے کا ذکر ناگزیر ہے۔ ان کے نزدیک یہ نظریہ معاشرے میں ولایتِ الٰہی اور حاکمیتِ توحید کے نفاذ کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اسلام نے اسلامی نظام کی رہنمائی کرنے والے فقیہ کو وہ تمام اختیارات عطا کیے ہیں جو نظام کی صحیح تشکیل، اس کی حفاظت اور انحراف سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔

ان کے نزدیک یہ وسیع اختیارات قیادت کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ اعلیٰ اجتماعی مصالح اور شریعت کے بلند مقاصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، رکاوٹوں کو دور کرنے اور جدید اسلامی تمدن کے قیام کے لیے ضروری حکومتی فیصلے کر سکے۔

دوسرے الفاظ میں، امام خامنہ ایؒ کی فکر میں ولایتِ مطلقۂ فقیہ محض ایک فقہی نظریہ نہیں، بلکہ اسلامی تمدن کی تعمیر و تشکیل کی ایک عملی اور متحرک قوت ہے، جو معاشرے کی قیادت کو تمدنی تبدیلیوں کی مؤثر منصوبہ بندی، رہنمائی اور مدیریت کے لیے ضروری اختیار اور لچک فراہم کرتی ہے۔

3۔ عوام: جدید اسلامی تمدن کا بنیادی ستون

آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی تمدنی فکر کا شاید سب سے نمایاں امتیاز یہ ہے کہ وہ اسلامی تمدن کی تشکیل میں عوام کو ایک بے مثال اور بنیادی مقام دیتے ہیں۔ وہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے اس ارشاد سے استدلال کرتے ہیں کہ: "اگر لوگ نہ ہوتے تو مجھ پر کوئی ذمہ داری نہ تھی۔" اسی بنیاد پر ان کا عقیدہ ہے کہ دینی جمہوریت ایک ایسا جامع تصور ہے جس میں ایک طرف عوام کے کردار کو اہمیت حاصل ہے اور دوسری طرف حکمرانی کے اسلامی اصولوں کی پابندی کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔

ان کے نزدیک عوام کی فعال شرکت اسلامی نظام کا ایک بنیادی اور ناگزیر اصول ہے، اور کوئی بھی شخصیت، خواہ وہ کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہو، عوام کی تائید اور تعاون سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔ یہی نقطۂ نظر اسلامی تمدن کو محض حکمرانوں یا خواص کے منصوبے سے نکال کر پوری امت کا مشترکہ مشن بنا دیتا ہے۔

ایسا تمدن عوام کی بصیرت، شعور، اجتماعی ارادے اور فعال شرکت پر استوار ہوتا ہے، اور یہی اس کی پائیداری، قوت اور مسلسل ارتقا کا راز ہے۔ دوسرے الفاظ میں، امام خامنہ ایؒ کی فکر میں ولایتِ فقیہ اور عوامی ارادہ ایک دوسرے سے اس قدر گہرے طور پر وابستہ ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کے بغیر دوسرے کا تصور بھی ادھورا رہ جاتا ہے۔

4۔ بیانیۂ گامِ دوم: تمدن سازی کا منشور

امام خامنہ ایؒ کی تمدنی فکر کا نقطۂ عروج بیانیۂ گامِ دومِ انقلاب میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے چالیس برس مکمل ہونے کے موقع پر جاری ہونے والا یہ بیانیہ محض ایک عارضی سیاسی پیغام نہیں، بلکہ خودسازی، معاشرہ سازی اور تمدن سازی کے دوسرے مرحلے کا ایک جامع منشور ہے۔ اس بیانیے میں جدید اسلامی تمدن کی تشکیل اور ولایتِ عظمیٰ کے نورانی دور کے استقبال کو انقلابِ اسلامی کا عظیم مقصد قرار دیا گیا ہے۔

اس اہم دستاویز میں امام خامنہ ایؒ نے مستقبل پر گہری نظر رکھتے ہوئے سات بنیادی شعبوں پر خصوصی توجہ دی ہے: علم و تحقیق، معنویت و اخلاق، معیشت، عدل اور انسدادِ بدعنوانی، استقلال و آزادی، قومی عزت اور خارجہ تعلقات، نیز طرزِ زندگی۔ انہوں نے اس عظیم تمدنی تحریک کے اصل مخاطب اور علمبردار نوجوانوں کو قرار دیا ہے۔ یہی بیانیہ انہیں محض ایک سیاسی رہنما کے بجائے ایک ایسے تمدنی معمار کے طور پر متعارف کراتا ہے جس نے مستقبل کے لیے ایک جامع اور حکمت آمیز لائحۂ عمل پیش کیا۔

نتیجہ

شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی شخصیت فقاہت کی گہرائی، مدبرانہ سیاست، عرفان، ادب، ثقافتی بصیرت اور حکمتِ عملی کا حسین امتزاج تھی۔ ان کا پائیدار فکری ورثہ دینی حکمرانی کا ایسا نمونہ پیش کرتا ہے جس میں فقہ، اجتہادی بصیرت اور زمانہ شناسی کے ساتھ فردی مسائل سے آگے بڑھ کر جدید اسلامی تمدن کی تعمیر کا رہنما بن جاتی ہے۔ اس فکر میں عوام تمدن سازی کا محور اور مقصد ہیں، جبکہ ولایتِ فقیہ اس عظیم سفر کی مدبر، رہنما اور نظم بخش قوت کی حیثیت رکھتی ہے۔

آج جبکہ دشمن مختلف محاذوں پر اس فکری اور تمدنی نمونے کو مسخ اور کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس عظیم شخصیت کی سیرت اور فکر کی صحیح تبیین ایک اہم علمی اور دینی ذمہ داری ہے، جو بالخصوص اہلِ علم، جامعات اور حوزہ ہائے علمیہ کے دوش پر عائد ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن جدید اسلامی تمدن اور بیانیۂ گامِ دوم کی صورت میں ان کی فکر آج بھی ملتِ ایران اور عالمِ اسلام کے لیے مشعلِ راہ ہے، اور یہی اس شخصیت کے گہرے اور دیرپا اثر کا سب سے روشن ثبوت ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha